نئی دہلی،5مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے رافیل سودے کو لے کر پوچھے گئے حملے پر جوابی حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حکومت نے اس لڑاکا طیارے کی خریداری کے عمل پر غور کرنے کے لئے بنائی گئی اعلی سطحی کمیٹی کی رپورٹ کو نظر انداز کیا جس پر مودی کو جواب دینا چاہئے۔پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی نے بی جے پی صدر امت شاہ پر بالاکوٹ میں اسٹرائک پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ وزیر اعظم اور شاہ کو اس سے بچنا چاہئے۔انٹونی نے نامہ نگاروں سے کہاکہ میں اپنے مسلح افواج کی بہادری اور قربانی کو سلام کرتا ہوں،ہم سب کو اپنے مسلح افواج کی حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے دعوی کیاکہ ہمارے وزیر اعظم ملک میں گھوم رہے ہیں اور غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔انہوں نے کانگریس پر الزام لگایا کہ کمیشن کے لئے رافیل کے سودے میں تاخیر کی،ان کے اس الزام میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ سابق وزیر دفاع نے کہا کہ کیگ رپورٹ سے صاف ہے کہ سابقہ این ڈی اے حکومت نے چار سال ضائع کئے لیکن جب یوپی اے سرکار آئی تو ہم نے عمل شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ عمل کے دوران بی جے پی کے رہنماؤں یشونت سنہا اور سبرامنیم سوامی نے اعتراض ظاہر کیا تھا۔اس کے بعد ایک کمیٹی کی تشکیل ہوئی۔اس کمیٹی کی رپورٹ کو نریندر مودی حکومت نے نظر انداز کیا،اگر ہم حکومت میں رہ کر کمیٹی کی رپورٹ کو نظر انداز کرتے تو کیگ کی کیا رائے ہوتی؟ کیا میڈیا کا یہی موقف ہوتا؟کانگریس لیڈر نے کہاکہ مجھے یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ اس حکومت میں کمیٹی کی رپورٹ پر نہ تو وزارت دفاع میں بحث ہوئی اور نہ ہی سیکورٹی معاملات کی کابینہ کمیٹی میں اس پر غور ہوا۔وزیر اعظم کو جواب دینا چاہئے کہ ان کی حکومت نے کمیٹی کی رپورٹ کو نظرانداز کیوں کیا؟۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ساتھ جو معاہدہ کیا، اس میں ملک کے قومی مفادات سے سمجھوتہ کیا۔امت شاہ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انٹونی نے کہاکہ میں کہنا چاہوں گا کہ ہمارے وقت فوجی مہم کے بارے میں دفاعی ترجمان معلومات دیتے تھے،اب بی جے پی صدر معلومات دیتے ہیں،وہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔وزیر اعظم اور بی جے پی صدر سے درخواست کرتا ہوں کہ مسلح افواج پر سیاست نہ کریں۔